Site icon كنوز العلم

Digital Gheebah: When “Calling Out” Becomes a Click Away from Sin

Digital Gheebah

It starts with a screenshot.
A post from someone we disagree with. A questionable opinion. Maybe a public figure’s mistake. We share it in a group chat or a private story—cropped, no name, but everyone knows. We add our commentary: “Can you believe this?” “This is so wrong.” “We need to warn others.”

Feels like accountability, right?
But somewhere between the share button and the “send” tap, a line gets crossed. What we call “calling out” often slips into something Islam deeply warns against: Gheebah—backbiting.

The Prophet Muhammad (peace be upon him) defined Gheebah in a way that chills any active social media user:
“It is to mention about your brother something that he dislikes.”
Someone asked, “What if what I say about him is true?”
He replied: “If what you say about him is true, you have backbitten about him. If it is not true, you have slandered him.”
(Sahih Muslim)

Let’s pause here.
True or false—if it’s something they wouldn’t like said publicly, and it’s not necessary to say, it enters the dangerous zone.

So Where’s the Line Between “Calling Out” and Sin?

This is where our modern digital life gets complicated.

✅ Calling Out (Naseehah – sincere advice) looks like:

❌ Digital Gheebah often disguises itself as:

The scariest part?
We sometimes feel religious while doing it. We think we’re “standing up for the truth.” But the Prophet (peace be upon him) warned: “The believer is not a slanderer, curser, or obscene.” (Tirmidhi)
Our means matter as much as our ends.

A Real Digital Test

Ask yourself before posting or sharing about someone:

  1. Is this necessary? Or am I just spreading noise?
  2. Have I spoken to them first? Or am I making their fault public without giving them a chance?
  3. Who benefits? Is this for ego, drama, likes—or genuine correction?
  4. Would I say this if they were in the room? The screen dehumanizes. Imagine them reading it.
  5. Am I qualified? Sometimes, silence is better if we lack knowledge or authority on the matter.

The Healing Alternative

Islam offers a beautiful alternative: conceal the faults of others.
The Prophet (peace be upon him) said: “Whoever conceals the faults of his Muslim brother, Allah will conceal his faults in this life and the Hereafter.” (Ibn Majah)

What if, instead of sharing that screenshot, we prayed for the person?
What if we DM’d them with kindness?
What if we just…scrolled past?

Our digital spaces are filled with enough hurt. Our faith calls us to be builders of dignity, not destroyers of reputation—even when we disagree.

Let’s make our clicks conscious.
Let’s make our shares sincere.
And let’s remember: on the Day of Judgment, our tweets, stories, and group chats won’t be private anymore.

May Allah protect our tongues and our fingers from harming others, and make our online presence a source of good, not grief. Ameen.


ڈیجیٹل غیبت: جب “کال آؤٹ” کرنا گناہ کے قریب پہنچ جاتا ہے

یہ ایک اسکرین شاٹ کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔
کسی کی ایسی پوسٹ جس سے ہم اختلاف کرتے ہیں۔ کوئی قابلِ اعتراض رائے۔ یا پھر کسی عوامی شخصیت کی غلطی۔ ہم اسے گروپ چیٹ میں یا پرائیویٹ سٹوری میں شیئر کر دیتے ہیں—نام تو ظاہر نہیں کرتے، لیکن سب جانتے ہیں کس کی بات ہو رہی ہے۔ ساتھ میں اپنی رائے بھی جوڑ دیتے ہیں: “یہ دیکھو، یقین آتا ہے؟” “یہ بالکل غلط ہے۔” “دوسروں کو خبردار کرنا ضروری ہے۔”

ایسا لگتا ہے جیسے ہم ذمہ داری اٹھا رہے ہیں، ہے نا؟
لیکن شیئر کے بٹن اور “سینڈ” ٹیپ کے درمیان، ایک لکیر عبور ہو جاتی ہے۔ جسے ہم “کال آؤٹ” کہتے ہیں، وہ اکثر اُس چیز میں بدل جاتا ہے جس سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے: غیبت۔

نبی اکرم ﷺ نے غیبت کی تعریف ایسے فرمائی جو کسی بھی سوشل میڈیا صارف کو سوچنے پر مجبور کر دے:
“یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا اُس بات کے ساتھ ذکر کرے جو اُسے ناگوار ہو۔”
صحابی نے پوچھا: “اگر وہ بات سچ ہو تو؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر سچ ہو تو تم نے اُس کی غیبت کی، اور اگر جھوٹ ہو تو تم نے بہتان لگایا۔”
(صحیح مسلم)

ٹھہریں۔
سچ ہو یا جھوٹ—اگر وہ بات ایسی ہے جو اس شخص کو public میں کہی جانا پسند نہیں، اور اسے کہنا ضروری بھی نہیں، تو یہ خطرناک زون میں داخل ہو جاتی ہے۔

پھر فرق کیا ہے “کال آؤٹ” اور گناہ میں؟

یہیں ہماری جدید ڈیجیٹل زندگی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

✅ کال آؤٹ (نصیحت) کچھ یوں ہوتا ہے:

❌ ڈیجیٹل غیبت اکثر یہ بھیس بدل لیتی ہے:

سب سے ڈراؤنی بات؟
ہم کبھی کبھی یہ سب کرتے ہوئے خود کو مذہبی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارا خیال ہوتا ہے کہ ہم “حق کی خاطر کھڑے ہوئے ہیں۔” لیکن نبی ﷺ نے فرمایا: “مومن طعنہ زن، لعنت کرنے والا اور فحش گو نہیں ہوتا۔” (ترمذی)
ہمارے مقصد کے ساتھ ساتھ ہمارے ذرائع بھی اہم ہیں۔

ایک حقیقی ڈیجیٹل آزمائش

کسی کے بارے میں پوسٹ یا شیئر کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیں:

  1. کیا یہ ضروری ہے؟ یا میں محض بات پھیلا رہا ہوں؟
  2. کیا میں نے پہلے اُن سے بات کی ہے؟ یا میں ان کی غلطی بغیر موقع دیئے عوامی کر رہا ہوں؟
  3. فائدہ کس کو ہوگا؟ کیا یہ میری انا، ڈراما، لائکس کے لیے ہے—یا حقیقی اصلاح کے لیے؟
  4. کیا میں یہ بات اُس کے سامنے کہہ سکتا ہوں؟ اسکرین انسانیت کو ختم کر دیتی ہے۔ تصور کریں وہ شخص یہ پڑھ رہا ہے۔
  5. کیا میں اس قابل ہوں؟ بعض اوقات اگر ہمارے پاس علم یا اختیار نہیں ہے تو خاموشی بہتر ہے۔

ایک خوبصورت متبادل

اسلام ایک خوبصورت متبادل دیتا ہے: دوسروں کے عیب چھپاؤ۔
نبی ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب چھپاتا ہے، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب چھپائے گا۔” (ابن ماجہ)

کیا ہو اگر، اسکرین شاٹ شیئر کرنے کی بجائے، ہم اُس شخص کے لیے دعا کریں؟
کیا ہو اگر ہم اُسے پیار سے DM کریں؟
کیا ہو اگر ہم بس…آگے سکرول کر جائیں؟

ہماری ڈیجیٹل فضا پہلے ہی تکلیف سے بھری پڑی ہے۔ ہمارا ایمان ہمیں عزت کے معمار بننے کی دعوت دیتا ہے، نیک نامی کے تباہ کرنے والے نہیں—چاہے ہماری رائے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

آئیں، اپنی کلکس کو بامقصد بنائیں۔
اپنے شیئرز کو خلوص سے بھریں۔
اور یاد رکھیں: قیامت کے دن، ہمارے ٹویٹس، سٹوریز اور گروپ چیٹس پرائیویٹ نہیں رہیں گے۔

اللہ ہماری زبانوں اور انگلیوں کو دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بچائے، اور ہمارے آن لائن وجود کو خیر کا ذریعہ بنائے، رنج کا نہیں۔ آمین۔

Exit mobile version