“Active Listening in Marriage”Active Listening as an Act of Ibadah (Worship)

“Active Listening in Marriage” Let Me Speak!

We all know the feeling. You’ve had a long, frustrating day, and all you want is to talk to your spouse and feel heard. But instead of their full attention, you get a nodding head with eyes glued to a phone screen, or worse—a response that completely misses the point. Inside, you just want to shout, “Please, let me speak!”

In our marriages, we often focus on the big things: providing, caring, praying together. But one of the most powerful, yet overlooked, pillars of a strong Islamic marriage is something deceptively simple: active listening.

And what if I told you that truly listening to your spouse isn’t just good communication—it’s an act of worship (Ibadah) that carries immense reward?

Listening is More Than Hearing Words

Hearing is passive. Sound enters your ears. Listening—active listening—is a choice. It’s an engaged, full-hearted effort to understand not just the words, but the feelings, hopes, and fears behind them.

The Prophet Muhammad (peace be upon him) was the perfect example of this. When someone spoke to him, he gave them his complete attention. He would turn his whole body towards them. He never interrupted. He made the speaker feel like they were the most important person in the world at that moment. That is the Sunnah of listening.

Why Is It an Act of Ibadah (Worship)?

  1. It is a Form of Obedience to Allah: Allah commands good treatment of spouses. “And live with them in kindness…” (Quran 4:19). What is kinder than giving someone the gift of your full presence and understanding?
  2. It is Following the Prophet’s (ﷺ) Character: His noble manners are our blueprint. Emulating his patience and attentiveness in conversation is a way of loving him and drawing closer to Allah.
  3. It Safeguards Rights: Your spouse has a right over you—the right to companionship, respect, and kindness. Active listening fulfills these rights beautifully.
  4. It Prevents Harm: So many arguments start with, “You never listen to me!” By listening actively, we avoid the sins of misunderstanding, harsh words, and hurting our partner’s heart. Preventing harm is a great deed in Islam.
  5. It Builds Mercy (Rahmah): The Quran describes spouses as garments for each other (2:187). A garment provides comfort, protection, and warmth. Your attentive listening is the ultimate comfort for your spouse’s heart, building the Sakinah (tranquility), Mawaddah (love), and Rahmah (mercy) that Allah promises.

How to Practice “Active Listening” as Ibadah

This isn’t about psychology tricks. It’s about intentionality. Before your spouse speaks, make a simple niyyah (intention): “O Allah, let me listen to my partner with compassion, to please You and strengthen our bond.”

Then, try these steps:

  • Put Down the Distraction: Physically put away your phone, turn off the TV, and face them. This action alone says, “You matter.”
  • Listen to Understand, Not to Reply: Don’t mentally prepare your defense or your next story. Just focus on their world in that moment.
  • Use Body Language: Nod, maintain gentle eye contact, use small verbal cues like “I see,” or “Go on.”
  • Reflect and Clarify: Say, “So what I’m hearing is that you felt overlooked when that happened, is that right?” This confirms you’re trying to understand.
  • Withhold Judgment (Initially): Your first job is to be a safe space, not a judge. Solutions can come later, but validation comes first.
  • Respond with Kindness: Even if you disagree, start with empathy. “I can understand why you’d feel that way.”

The Blessings in Your Home

When you start practicing this, the change is tangible. Small resentments melt away before they become big fights. Your spouse feels valued and loved. The atmosphere in your home becomes lighter, more peaceful. You’re not just “communicating better”—you are building a fortress of mutual respect where love can grow.

The next time your partner wants to talk, remember: that moment is a divine opportunity. By choosing to truly listen, you are not just being a good husband or wife. You are earning reward, following the Sunnah, and answering a silent du’a of the heart.

So, let them speak. And listen with your whole heart. It is one of the purest forms of worship your marriage will ever know.


اردو ترجمہ: “مجھے بولنے دو!” فعال سماعت عبادت کا عمل

ہم سب نے وہ احساس محسوس کیا ہے۔ آپ کا دن مشکل اور پریشان کن گزرا ہے، اور آپ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اپنے ساتھی سے بات کریں اور سنے جانے کا احساس حاصل کریں۔ لیکن ان کی مکمل توجہ کے بجائے، آپ کو صرف ایک سر ملتا ہے جس کی نظریں موبائل اسکرین پر چپکی ہوتی ہیں، یا اس سے بھی بدتر — ایسا جواب جو بات کا اصل نقطہ ہی سمجھ نہیں پاتا۔ اندر سے، آپ صرف یہ چیخنا چاہتے ہیں: “براہ کرم، مجھے بولنے دو!”

ہم اپنی شادی میں اکثر بڑی چیزوں پر توجہ دیتے ہیں: گھر چلانا، دیکھ بھال کرنا، مل کر نماز پڑھنا۔ لیکن ایک مضبوط اسلامی شادی کا سب سے طاقتور، پھر بھی اکثر نظر انداز کردہ ستون ایک بظاہر آسان چیز ہے: فعال سماعت (ایکٹو لِسننگ)۔

اور اگر میں آپ کو بتاؤں کہ اپنے ساتھی کو سچ مچ سننا محض اچھی بات چیت نہیں ہے — بلکہ یہ عبادت (اِبادہ) کا ایک عمل ہے جس کا اجر بہت زیادہ ہے؟

سننا محض الفاظ سننے سے کہیں زیادہ ہے

کان سے سننا ایک غیر فعال عمل ہے۔ آواز کان میں داخل ہوتی ہے۔ سماعت — فعال سماعت — ایک چوائس ہے۔ یہ ایک پوری طرح سے مشغول، دل لگا کر کی گئی کوشش ہے کہ صرف الفاظ ہی نہیں، بلکہ ان کے پیچھے چھپے جذبات، امیدیں اور خدشات کو سمجھا جائے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بہترین نمونہ تھے۔ جب کوئی آپ سے بات کرتا، تو آپ اپنی پوری توجہ انہیں دیتے۔ آپ اپنا پورا جسم ان کی طرف موڑ دیتے۔ آپ کبھی بات نہ کاٹتے۔ آپ بات کرنے والے کو یہ احساس دلاتے کہ اس وقت وہ دنیا میں سب سے اہم شخص ہیں۔ یہ سننے کی سنت ہے۔

یہ عبادت کیوں ہے؟

١. یہ اللہ کی اطاعت کی ایک شکل ہے: اللہ حکم دیتا ہے کہ ساتھی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ “اور ان (بیویوں) کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔۔۔” (قرآن 4:19)۔ اپنی مکمل موجودگی اور تفہیم کا تحفہ دینے سے بڑھ کر اور کیا مہربانی ہو سکتی ہے؟

٢. یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی پیروی ہے: آپ کے بلند اخلاق ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ بات چیت میں آپ کے صبر اور توجہ کی نقل کرنا، آپ کی محبت اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔

٣. یہ حقوق کی حفاظت کرتی ہے: آپ کے ساتھی کا آپ پر حق ہے — رفاقت، عزت اور مہربانی کا حق۔ فعال سماعت ان حقوق کو خوبصورتی سے پورا کرتی ہے۔

٤. یہ نقصان سے بچاتی ہے: کتنی ہی جھڑپیں اس جملے سے شروع ہوتی ہیں: “تم نے کبھی میری بات نہیں سنی!” فعال طور پر سن کر، ہم غلط فہمی، سخت کلمات اور ساتھی کے دل کو ٹھیس پہنچانے کے گناہوں سے بچ جاتے ہیں۔ نقصان کو روکنا اسلام میں بہت بڑا عمل ہے۔

٥. یہ رحمت (رحمہ) بناتی ہے: قرآن ساتھیوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے (2:187)۔ لباس سکون، حفاظت اور گرمجوشی فراہم کرتا ہے۔ آپ کی متوجہ سماعت آپ کے ساتھی کے دل کے لیے حتمی سکون ہے، جو وہ “سکینہ” (اطمینان)، “مودت” (محبت) اور “رحمہ” (رحمت) بناتی ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔

“فعال سماعت” کو عبادت کی طرح کیسے اپنائیں

یہ نفسیاتی چالوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ نیت کے بارے میں ہے۔ اپنے ساتھی کے بولنے سے پہلے، ایک سادہ نیت کریں: “اے اللہ، مجھے اپنے ساتھی کو شفقت کے ساتھ سننے کی توفیق دے، تاکہ میں تیری رضا حاصل کروں اور ہمارے رشتے کو مضبوط بنا سکوں۔”

پھر، ان اقدامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں:

  • پریشانی کو ایک طرف رکھیں: جسمانی طور پر اپنا فون دور رکھیں، ٹی وی بند کریں، اور ان کی طرف رخ کریں۔ یہ عمل ہی کہتا ہے: “تم اہم ہو۔”
  • سمجھنے کے لیے سنیں، جواب دینے کے لیے نہیں: ذہنی طور پر اپنا دفاع یا اگلی کہانی تیار نہ کریں۔ بس اس وقت ان کی دنیا پر توجہ مرکوز کریں۔
  • جسمانی زبان استعمال کریں: سر ہلائیں، نرم نظروں سے ان کی طرف دیکھیں، چھوٹے لفظ جیسے “ہاں، سمجھا” یا “پھر بتاؤ” استعمال کریں۔
  • منعکس کریں اور واضح کریں: کہیں، “تو میں سمجھ رہا/رہی ہوں کہ جب ایسا ہوا تو آپ کو نظر انداز کیا گیا محسوس ہوا، کیا بات درست ہے؟” یہ تصدیق کرتا ہے کہ آپ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  • فیصلہ روکے رکھیں (ابتدا میں): آپ کا پہلا کام محفوظ جگہ بننا ہے، جج نہیں۔ حل بعد میں آ سکتے ہیں، لیکن تصدیق پہلے آتی ہے۔
  • مہربانی سے جواب دیں: چاہے آپ اختلاف کریں، ہمدردی سے آغاز کریں۔ “میں سمجھ سکتا/سکتی ہوں کہ آپ کو ایسا کیوں محسوس ہوا۔”

آپ کے گھر میں برکتیں

جب آپ اس پر عمل کرنا شروع کرتے ہیں، تو تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی ناراضگیاں بڑے جھگڑے بننے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ آپ کا ساتھی خود کو قابل قدر اور پیارا محسوس کرتا ہے۔ آپ کے گھر کا ماحول ہلکا، زیادہ پُر امن ہو جاتا ہے۔ آپ محض “بہتر بات چیت” نہیں کر رہے — آپ باہمی احترام کا ایک قلعہ بنا رہے ہیں جہاں محبت پروان چڑھ سکے۔

اگلی بار جب آپ کا ساتھی بات کرنا چاہے، یاد رکھیں: وہ لمحہ ایک الہی موقع ہے۔ سچ مچ سننے کا انتخاب کر کے، آپ صرف اچھے شوہر یا بیوی نہیں بن رہے۔ آپ ثواب کما رہے ہیں، سنت پر چل رہے ہیں، اور دل کی ایک خاموش دعا کو قبول کر رہے ہیں۔

تو، انہیں بولنے دیں۔ اور پورے دل سے سنیں۔ یہ آپ کی شادی کی عبادت کی خالص ترین شکل ہے۔

Leave a Comment